علم و دانش کا بیش بہا سمندر

حوزہ/قدرت نے مجھے علم کا ایسا سمندر عطا کیا جس کی لہریں میرے ساتھ خوب مستیاں کرتیں، کبھی خاموشی کے ساتھ میری تنہائی کا سہارا بنتی، میں نے خدا کا بہت شکر ادا کیا کہ ربِ اکبر نے میرے وجود میں علم سے شدید محبت کو جو دیکھا تو مجھ پہ ترس کھایا اور مجھے جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ سے ملوایا۔

تحریر: محترمہ شازیہ بتول

حوزہ نیوز ایجنسی| علم کے سمندر سے لگاؤ مجھے ہمیشہ سے تھا؛ میری سیاحت کا مرکز، میرا ہم و غم بس یہی ہوا کرتا تھا، لیکن میں نے ہمیشہ اس سمندر کا کنارے سے ہی مشاہدہ کیا، کبھی اس میں غوطہ ور ہونے کی سعادت نصیب نہیں ہوئی۔ نہ جانے کونسی چیز میرے سامنے حائل ہوجاتی کہ میں اس سمندر میں غوطہ ور ہونے کی شدید اُنسیت کے باوجود کبھی اُس کنارے سے آگے نہ بڑھ پائی۔

اس کے بعد میری قسمت کا ستارہ چمکا، قدرت نے مجھے علم کا ایسا سمندر عطا کیا جس کی لہریں میرے ساتھ خوب مستیاں کرتیں ،کبھی خاموشی کے ساتھ میری تنہائی کا سہارا بنتی، میں نے خدا کا بہت شکر ادا کیا کہ ربِ اکبر نے میرے وجود میں علم سے شدید محبت کو جو دیکھا تو مجھ پہ ترس کھایا ،اور مجھے جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ سے ملوایا۔

18 اگست 2023ء، میری زندگی کا وہ سنہرا دن تھا جب قدرت نے میرے وجود میں موجود شدتِ شوق کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے، ایک ایسا شوق جس کے سائے تلے میں پروان چڑھی ،زندگی نے جیسے جیسے رفتار پکڑی، یہ شوق زہر ہلاہل کی طرح میرے وجود میں سرایت کر گیا۔بس وہ کہتے ہیں نا ہر چیز جو حد سے زیادہ ہو وہ زہر ہے پھر چاہے وہ محبت ہی کیوں نہ ہو۔

زندگی کے اس سفر نے مجھے ایک ایسے اسٹاپ پر اتارا جہاں علم و دانش کی خوشبو نے پوری فضا کو معطر کیا ہوا تھا، جہاں کی ہوائیں ،بادِ نسیم کی ہواؤں کی مثل میرے وجود میں اُتر کر پورے وجود کو ایک نئی جان بخش رہی تھی، جہاں علم و فن کا اتنا وسیع سمندر تھا کہ کوئی بھی علم کا پیاسہ وہاں آکر سیراب ہونا چاہے تو شاید دوبارہ کبھی تشنگی کو محسوس نہ کرے۔

میرے وجود کی بڑھتی تشنگی کو اسی ادارے نے بجھایا۔جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ علم و دانش کا وہ سمندر ہے جس میں ،میں خود غوطہ ور ہوئی اور 3 سال تیراکی کی۔ جس نے میرے وجود کے زہر کو شہد سے بدلا ،میرے وجود کو اُس سکون سے آراستہ کیا کہ اِس لمحے جب آپ سب کے سامنے گویا ہوں تو اس سکون کو محسوس کر رہی ہوں۔ یوں تو خداوند کے میری حیات حقیر پر بے شمار احسانات ہیں لیکن جامعۃ المصطفیٰ میری زندگی پر خدا کے اُن احسانات میں شامل ہے جن کا کوئی نعم البدل نہیں۔

یہ مبالغے سے کوسوں دور ایک حقیقی امر ہے جس کے اثبات کے لئے آپ کو اس علم کے وسیع میدان میں داخل ہو کر بذاتِ خود مشاہدہ کرنے کی دعوت دی جاتی ہے۔ کیونکہ دنیا میں مشاہدہ سے بڑھ کر کوئی قطعی دلیل نہیں۔

جامعۃ المصطفیٰ میں نے قدم رکھا تو اس زمین نے میرے وجود میں ایسا سحر کیا کہ میری زندگی کی کایہ ہی پلٹ گئی۔ خوبصورت فرش سے لدا ہوا مدرسہ جہاں تھکے ہارے پیروں نے سُکھ کا سانس لیا، دائیں بائیں نظریں جمائیں تو خوبصورت ،صاف شفاف در و دیوار نظر آئے، دل نے دروازوں کو کھولنے کی خواہش ظاہر کی لیکن دماغ نے عقل سے کام لیا اور دل کی مخالفت کی۔ بہر حال اوپر والی منزل میں جانے کے لئے جب سیڑھیوں پر قدم رکھا تو ایسا محسوس ہوا کہ یہ علم کی بلندیوں تک پہنچنے کا راستہ ہے۔ لہذا ان سیڑھیوں کو ذہنی و دلی سکون کے ساتھ عبور کیا۔دوسری منزل میں بھی کافی کمرے موجود تھے ،لیکن مجھے تیسری منزل لے جایا گیا جو آخری منزل تھی۔شاید میرے لئے تیسری منزل کا انتخاب اِس بات کی طرف اشارہ تھا کہ مجھے یہاں سے علم کے آسمان کی طرف پرواز کا موقع میسر ہے اور یہیں میری مضطرب روح، علم و دانش کی وسعتوں کو پا کر مطمئن ہو سکے گی۔اور واقعاً ایسا ہی ہوا۔

جامعۃ المصطفیٰ میں رہائش کا وہ ماحول میسر ہے جہاں بے چین روحیں ،چین اور بیمار نفس ،صحت پاتے ہیں۔ جہاں معنویت کی وہ فضا قائم ہے کہ انسان جب اس فضا کو محسوس کرتا ہے تو عرش کے بلندیوں میں خود کو پاتا ہے۔

اِس کے بعد میں نے کچھ اجنبی لیکن مستقبل کے ساتھیوں کے ساتھ فاصلوں پر موجود کمروں کو کھول کر دیکھنا چاہا تو تیسری منزل پر موجود سب رہائش کے کمرے تھے۔ حسِ جستجو اور اس ماحول سے محسوس ہونے والی اپنائیت دوسری منزل کی طرف کھینچ لائی اور ہم مجبور ہوئے کہ دوسری منزل میں موجود کمروں کا بھی مشاہدہ کریں تو معلوم ہوا وہاں شروع کی تین کلاسز اور باقی رہائش کے کمرے ہیں، بعد ازآں، ہم نے نیچے کی طرف اپنا رُخ کیا تو ہمارے علم میں آیا ،نیچے کا حصہ نصف ہاسٹل اور نصف آموزش کا حصہ ہے۔ وہاں ہم نے ایک کمرے کو کھولا تو نہایت منظم اور صاف ستھرا کمرہ پایا جو اساتذہ کے لئے مختص تھا جو واقعاً ان کے شایان شان تھا، تھوڑا آگے گئے تو ایک خوبصورت کمرے کو دیکھا جہاں داخل ہونے کی ہمیں اجازت نہ تھی لیکن بہت بعد میں ہمیں اس کمرے کی اندرونی وضعیت کا پتہ چلا جس میں داخل ہو کر ہی محسوس ہونے لگتا کہ یہ کسی عظیم الشان ہستی کا کمرہ ہے ،اور ایسا ہی تھا وہ کمرہ پرنسپل صاحبہ کا کمرہ تھا جو ان کی پُر منظم شخصیت کی نشاندہی کرتا ہے ،اِس کے بعد ایک کمرہ آموزش و پژوھش کا تھا جو ہمیشہ صفحوں ،فایلوں ،کاغذ و قلم کی بُو سے معطر رہتا ہے، اسی سے تھوڑا آگے گئے تو دارالقرآن اور فرھنگ کا کمرہ تھا جو بہت معنویت سے منور اور خوشیوں کا گہوارہ معلوم ہوتا تھا، اُس کمرے کے آگے کمپیوٹر لیب کو موجود پایا، جس میں طلاب کے رشد کرنے اور علم کی تشنگیوں سے سیراب ہونے کے لئے پورا اہتمام کیا ہوا تھا۔ اس فلور میں ایک کتابخانہ بھی ہماری نظروں کے سامنے آیا جس میں علم کا خزانہ موجود تھا۔لائبریری میں داخل ہو کر مجھے ایسا محسوس ہوا میں نے علم کے وسیع سمندر میں چھلانگ لگادی ہو۔ وہاں ہر طرح کی کتابیں موجود تھیں۔ علمی،ادبی،عقائدی،اخلاقی،سیاسی،حدیثی،معاشرتی،معاشی، عرفانی وغیرہ ،ہر سنخ کی کتابوں کو ہم نے پایا حتیٰ اہل سنت کی کتابوں کو بھی بنا تعصب کے ہم نے وہاں رکھا پایا۔

لائبریری کو دیکھ کر بہت سکون ملا اور اندرونی صلاحیتوں کو رشد ہوتا محسوس کیا۔

اس فلور کے نیچے انڈر گراؤنڈ میں ایک وسیع و عریض نماز خانہ موجود تھا جہاں کی فضا معنویت اور روحانیت سے معطر تھی کہ دنیا کی رنگینیوں ، دھوکہ و فریب سے تنگ آئے اور اپنے سرکش نفس کی قید سے زخم کھائے لوگ اپنا حال دل بیان کرنے خدا کے حضور اس پُر سکون نماز خانے میں جا کر دنیا کے فریب سے دور اور نفس کی قید سے آزاد ہوسکتے تھے۔

جامعۃ المصطفیٰ علم و دانش کا ایک ایسا سمندر ہے جہاں غوطہ ور ہونے اور تیرنے کی مشق کے لئے ایسی شخصیات کا انتخاب کیا گیا تھا جن کے سینوں میں خود علم کا دریا موجود ہے اور وہ شخصیات ہر آنے والے کی تشنگی کو اپنے علم کے دریا سے اس طرح سیراب کرتی ہیں کہ دوبارہ پیاس نہیں لگتی۔

یہاں کے لایق، فائق ،اپنے علم میں ماہر اور قابل تحسین اساتید، شاگردوں کو اپنے وجود کا حصہ سمجھتے ہیں ،اُن کی خوشی اور اُن کی کامیابیوں میں اُن سے زیادہ خوش ہوتے ہیں اور اُن کے دکھوں اور غموں میں ایک بلند و بالا پہاڑ کی مانند حوصلہ دیتے ہیں اور زخموں پر مرہم لگانے کا ہنر جانتے ہیں۔زندگی کے ہر طوفان سے ایک مضبوط چٹان کی مانند اپنے طلاب کو بچاتے ہیں ،خود کو فنا کر دیتے ہیں صرف ہماری بقاء کے لئے۔

علم حاصل کرنا ایک جہاد ہے اور میرا طرہ امتیاز یہ ہے کہ مجھے ایسی شخصیات کی رکاب میں جہاد کا موقع ملا جو ہمارے بے تاب تخیل کو قرار دینے کا گُر جانتے ہیں۔ایسی شخصیات سے ایک مدت تک کسب فیض کرنے کے بعد مجھے سب کچھ چھوڑ کر آگے بڑھنے کو کہا گیا لیکن میرا وجدان اس بات کے سامنے گُھٹنے ٹیکنے کو تیار نہیں کہ میں اُس جگہ کو چھوڑ دوں جس نے مجھے میری جگہ سے بلند کیا ،میں اُن شخصیات سے گزر جاؤں جنہوں نے میری بکھری ،بگڑتی ،فرسودہ شخصیت کو سنوارا اور سنبھالا ،مجھے زندگی جینے کا سلیقہ سکھایا، جن کی بدولت میری فکر نے اوج کی منزلوں کو پار کیا۔

بہرحال ایک مدت گزارنے کے بعد مجھے آگے بڑھنا تھا،مجھے سب کچھ سہنا تھا۔جامعۃ المصطفیٰ میں بسر کئے لمحات میرے لئے ایک ایسے خواب کی مانند تھے جو میں نے بیداری میں دیکھے، جس کی تعبیر میری فکری رشد، ذہنی کمال اور قلبی سکون کی صورت میں نمایاں ہوئی اور منظر عام پر آئی۔

بس یہاں میں نے اپنے رواں دواں سفر کو آگے جاری و ساری رکھنے کا فیصلہ کیا اور اب شدت سے منتظر ہوں کہ مجھے جامعۃ المصطفیٰ کی شکل میں ایسا سمندر عطا ہو ،جس میں تیرنے اور سرکش موجوں سے خود کو بچانے میں ،مجھے اوج کمال حاصل ہو، جہاں میں ماہی گیری کی ماہرہ کہلائی جاؤں اور کوئی اس عروج کی وضاحت چاہے تو بس اس عروج کا راز جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کے نام اس شعر سے کروں:

ہے میرے باغِ سخن کے لئے تو بادِ بہار

میرے بے تاب تخیل کو دیا تو نے قرار،

جب سے آباد تیرا عشق ہوا سینے میں

نئے جوہر ہوئے پیدا مرے آئینے میں،

حُسن سے عشق کی فطرت کو ہے تحریک کمال

تجھ سے سرسبز ہوئے میری امیدوں کے نہال

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha